کراچی میں سڑکوں اور گلیوں کی کھدائی کا معاملہ سندھ ہائی کورٹ پہنچ گیا

کراچی میں سڑکوں اور گلیوں کی کھدائی کے بعد انہیں بحال نہ کرنے کا سنگین معاملہ سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ کے سامنے پہنچ گیا ہے۔ کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عدنان الکریم نے ریمارکس دیے کہ عدالتیں سڑکوں اور گلیوں کی کھدائی یا تعمیراتی کاموں کی نگرانی کے لیے نہیں بلکہ بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے قائم کی گئی ہیں۔ اس موقع پر عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے دلیری سے عدالت کو مصلحتی پوزیشن پر آگاہ کیا کہ گلیوں اور سڑکوں کی ناگفتہ بہ حالت اور انہیں طویل عرصے تک بحال نہ کرنے سے شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق شدید تزویراتی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔

وکیلِ صفائی نے شاہ فیصل کالونی کی یونین کونسل 3 کی مثال دیتے ہوئے عدالت کو مینوئل پوزیشن پر بتایا کہ پوری یو سی کھود کر چھوڑ دی گئی ہے، ترقیاتی کام مروجہ کلاؤڈ کے تحت معطل ہے اور اہل علاقہ شدید ذہنی و جسمانی پریشانی میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے استدعا کی کہ عدالت ٹاؤن چیئرمین اور حکومت کو سڑکوں کی فوری تعمیرات کا کڑا تزویراتی حکم جاری کرے، جس پر جسٹس عدنان الکریم نے واضح کیا کہ عدالت اس مینوئل درخواست پر غور کر رہی ہے اور اس حوالے سے مصلحتی متبادل فریم ورک کے تحت آج ہی فیصلہ جاری کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے