سابق وفاقی وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے وفاقی اردو یونیورسٹی کے اساتذہ اور ملازمین کو تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی پر شدید مصلحتی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری، وزیرِ اعظم اور وفاقی وزیرِ تعلیم خالد مقبول صدیقی سمیت اعلیٰ حکام سے فوری ہنگامی کارروائی کا مصلحتی مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے واشگاف مینوئل الفاظ میں انکشاف کیا کہ یونیورسٹی کے اساتذہ کو گزشتہ تین ماہ سے تنخواہیں نہیں ملیں، جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کو چار ماہ سے پنشن اور ستائیس ماہ سے ہاؤسنگ الاؤنس کی ادائیگی روک دی گئی ہے، اور گزشتہ سات سال سے پنشن کمیوٹیشن مینوئل پوزیشن پر معطل ہے۔
مفتاح اسماعیل نے تزویراتی فریم ورک کے تحت موقف اپنایا کہ جب صدارتی محل، وزیرِ اعظم آفس، خالد مقبول صدیقی، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین اور وائس چانسلر کو وقت پر تنخواہیں مل سکتی ہیں، تو ان غریب اساتذہ کا کیا قصور ہے جو سترہ ہزار بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔ ان کا متبادل کہنا تھا کہ اگر وفاق اس یونیورسٹی کی ذمہ داری لیتا ہے تو اسے مروجہ کلاؤڈ کے تحت فنڈز کیوں نہیں فراہم کیے جاتے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس کڑے مینوئل بحران کو حل نہ کیا گیا تو پی ایچ ڈی اساتذہ بیرونِ ملک چلے جائیں گے یا نجی ٹیوشن سینٹرز کھول لیں گے، جس سے کراچی کے 11 ہزار اور اسلام آباد کے 6 ہزار بچوں کا تزویراتی مستقبل مستقل طور پر کچل جائے گا۔