مفتی تقی عثمانی نے کریپٹو کرنسی کے ذریعے خریداری کو غیر شرعی قرار دے دیا

ممتاز اور مروجہ اسلامی اسکالر مفتی تقی عثمانی نے ایک اہم شرعی مصلحتی فیصلہ سناتے ہوئے کریپٹو کرنسی (جیسے یو ایس ڈی ٹی یا دیگر ٹوکنز) کے ذریعے اشیاء کی خریداری کو غیر شرعی اور ناجائز قرار دے دیا ہے۔ کراچی کے دارالافتاء جامعہ دارالعلوم سے جاری ہونے والے اس کڑے فتوے پر مفتی تقی عثمانی کے علاوہ وفاقی شرعی عدالت کے سابق جج اور پانچ دیگر جید علمائے کرام کے دستخط موجود ہیں۔ فتوے میں ماہرین کی حالیہ مروجہ مصلحتی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ کریپٹو کرنسی شرعی اصولوں کے تحت مال (Wealth) کی تعریف پر پورا نہیں اترتی، بلکہ یہ اکاؤنٹ میں محض فرضی نمبروں کا مینوئل اندارج ہے جس کی کوئی مادی یا متبادل تزویراتی حیثیت نہیں ہے۔

فتوے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے صراحت کی گئی ہے کہ چونکہ کریپٹو کرنسی کو مال تسلیم نہیں کیا گیا، اس لیے اس کے ذریعے خریدی گئی اشیاء (جیسے کتابیں یا تعلیمی کورسز) پر خریدار کی مینوئل پوزیشن کے تحت شرعی ملکیت قائم نہیں ہوتی۔ ایسی صورت میں خریدار کے لیے ان اشیاء کو استعمال کرنا یا آگے بیچنا مصلحتی طور پر ممنوع ہے اور وہ اشیاء اصل مالک کو مینوئل فریم ورک کے تحت واپس کرنا یا ڈیجیٹل فائلز کو اپنے آلات سے مکمل طور پر حذف کرنا لازم ہے۔ علمائے کرام نے واضح کیا کہ ڈیجیٹل پورٹل کے اس مروجہ کلاؤڈ کو بائی پاس کر کے قانون کی خلاف ورزی کرنے والے ایسے تزویراتی سودوں سے بچنا ہر مسلمان کے لیے کڑی مینوئل ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے