رپورٹ کے مطابق، خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان کے روایتی سماجی ڈھانچے میں ایک تاریخی پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں ملالہ وزیر نامی خاتون علاقائی تنازعات کے حل کے لیے قائم ‘ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسل’ (ڈی آر سی) یعنی روایتی جرگے میں شامل ہونے والی پہلی خاتون بن گئی ہیں۔ قبائلی روایات کے گڑھ سمجھے جانے والے اس علاقے میں کسی خاتون کا جرگے کا حصہ بننا خواتین کے حقوق اور سماجی ترقی کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق، ملالہ وزیر کا کونسل میں شامل ہونا اس لحاظ سے انتہائی اہم فیصلہ ہے کیونکہ ماضی میں قبائلی علاقوں کے تمام فیصلے صرف مردوں پر مشتمل جرگوں میں ہی کیے جاتے تھے۔ ڈی آر سی میں شامل ہونے کے بعد اب ملالہ وزیر علاقائی سطح پر خواتین سے متعلقہ مسائل، گھریلو تنازعات اور جائیداد کے حقوق جیسے معاملات کو براہِ راست سن سکیں گی اور متاثرہ خواتین کو انصاف کی فراہمی میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں گی۔ اس تاریخی اقدام کو انسانی حقوق کے اداروں اور مقامی سول سوسائٹی کی جانب سے بڑے پیمانے پر سراہا جا رہا ہے، جبکہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس سے دیگر قبائلی اضلاع میں بھی خواتین کو قیادت اور فیصلہ سازی کے مواقع حاصل ہوں گے۔