لاہور میں غیر ملکی خواتین سے زیادتی کا واقعہ افسوسناک، مجرم کا رشتہ دار قصوروار نہیں ہوتا

رپورٹ کے مطابق، سندھ کے صوبائی وزیرِ اطلاعات و نشریات شرجیل انعام میمن نے لاہور میں دو غیر ملکی خواتین کے ساتھ پیش آنے والے زیادتی کے واقعے کو شدید الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے انتہائی افسوسناک اور ملک کی بدنامی کا سبب قرار دیا ہے۔ انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران واضح کیا کہ اس ہولناک واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے اور سوسائٹی کا ہر فرد اس پر رنجیدہ ہے۔ تاہم، انہوں نے کیس میں نامزد ملزمان کے بااثر رشتہ داروں (علی ڈار) کا نام لیے بغیر کہا کہ قانون کے مطابق ہر شخص اپنے ذاتی عمل کا خود ذمہ دار ہوتا ہے، کسی کے جرم کی سزا یا تنقید اس کے رشتہ داروں پر ڈالنا سراسر زیادتی ہے۔

صوبائی وزیر نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر گفتگو کرتے ہوئے پنجاب حکومت کے فوری اقدامات کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے واقعے پر فوری نوٹس لیتے ہوئے نہ صرف متاثرہ لڑکیوں کو باحفاظت بازیاب کروایا، بلکہ فوری ایف آئی آر درج کر کے ملوث افراد کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔ شرجیل انعام میمن نے اصرار کیا کہ تنقید صرف اس صورت میں جائز ہے اگر کوئی بااثر شخصیت اپنی پوزیشن کا استعمال کر کے مجرم کو بچانے یا تفتیش پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے؛ اگر ایسا نہیں ہے تو قانون اپنا راستہ خود بنائے گا اور مجرم کو عدالت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے میڈیا اور عوام پر زور دیا کہ اس حساس معاملے کو سیاسی تنازع بنانے کے بجائے حکومت کے فوری ایکشن کو سراہا جائے۔رپورٹ کے مطابق، سندھ کے صوبائی وزیرِ اطلاعات و نشریات شرجیل انعام میمن نے لاہور میں دو غیر ملکی خواتین کے ساتھ پیش آنے والے زیادتی کے واقعے کو شدید الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے انتہائی افسوسناک اور ملک کی بدنامی کا سبب قرار دیا ہے۔ انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران واضح کیا کہ اس ہولناک واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے اور سوسائٹی کا ہر فرد اس پر رنجیدہ ہے۔ تاہم، انہوں نے کیس میں نامزد ملزمان کے بااثر رشتہ داروں (علی ڈار) کا نام لیے بغیر کہا کہ قانون کے مطابق ہر شخص اپنے ذاتی عمل کا خود ذمہ دار ہوتا ہے، کسی کے جرم کی سزا یا تنقید اس کے رشتہ داروں پر ڈالنا سراسر زیادتی ہے۔

صوبائی وزیر نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر گفتگو کرتے ہوئے پنجاب حکومت کے فوری اقدامات کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے واقعے پر فوری نوٹس لیتے ہوئے نہ صرف متاثرہ لڑکیوں کو باحفاظت بازیاب کروایا، بلکہ فوری ایف آئی آر درج کر کے ملوث افراد کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔ شرجیل انعام میمن نے اصرار کیا کہ تنقید صرف اس صورت میں جائز ہے اگر کوئی بااثر شخصیت اپنی پوزیشن کا استعمال کر کے مجرم کو بچانے یا تفتیش پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے؛ اگر ایسا نہیں ہے تو قانون اپنا راستہ خود بنائے گا اور مجرم کو عدالت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے میڈیا اور عوام پر زور دیا کہ اس حساس معاملے کو سیاسی تنازع بنانے کے بجائے حکومت کے فوری ایکشن کو سراہا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے