زیارت میں پولیس چوکی پر دہشت گردوں کے حملے میں 9 اہلکار شہید

رپورٹ کے مطابق، بلوچستان کے ضلع زیارت میں سیکیورٹی محاذ سے ایک انتہائی افسوسناک اور بڑی خبر سامنے آئی ہے جہاں مانگی ڈیم کے علاقے میں واقع ایک پولیس چوکی پر دہشت گردوں نے رات کے اندھیرے میں بزدلانہ حملہ کر دیا ہے۔ فائرنگ کے شدید تبادلے کے نتیجے میں 2 ایس ایچ اوز اور اینٹی ٹیررسٹ فورس (اے ٹی ایف) کے انچارج سمیت کم از کم 9 پولیس اہلکار شہید ہو گئے ہیں۔ زیارت کے ڈپٹی کمشنر عبدالقدوس اچکزئی نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حملے کے بعد سے 5 پولیس اہلکار لاپتہ بھی ہیں جن کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کے مشیر برائے میڈیا و سیاسی امور شاہد رند کے مطابق، سیکیورٹی فورسز نے حملے کے فوری بعد علاقے میں ایک بڑا کلیئرنس آپریشن شروع کیا، جس کے نتیجے میں کالعدم تنظیم فتنۃ الخوارج (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے 15 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کو عبرت ناک انجام سے دوچار کیا جائے گا۔ اس ہولناک واقعے کے خلاف مقامی آبادی نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کوئٹہ-زیارت ہائی وے کو بلاک کر دیا ہے، جس سے ٹریفک کی روانی معطل ہو گئی ہے۔ صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے اور عزم ظاہر کیا ہے کہ بلوچستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی ہر سازش کو آہنی ہاتھوں سے کچلا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے