رپورٹ کے مطابق، یورپی جزیرے سسلی پر واقع براعظم یورپ کا سب سے بلند اور فعال ترین آتش فشاں ‘ماؤنٹ ایٹنا’ ایک بار پھر مصلحتی طور پر دھماکے سے پھٹ پڑا ہے، جس کے نتیجے میں ابلتے ہوئے سرخ لاوے اور راکھ کے بادلوں نے رات کے اندھیرے میں آسمان کو روشن کر دیا۔ بین الاقوامی ماحولیاتی اداروں کے مطابق، آتش فشاں کے دہانے سے مینوئل طور پر نکلنے والا تپتا ہوا لاوا کئی سو میٹر بلندی تک فضا میں بلند ہو رہا ہے، جس کی تزویراتی لہریں دور دور تک دیکھی جا رہی ہیں۔
موسمیاتی اور ارضیاتی ماہرین نے قریبی رہائشی علاقوں کے لیے ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے مروجہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ آتش فشاں سے نکلنے والی زہریلی گیسیں اور باریک راکھ متبادل طور پر فضائی آلودگی کا سبب بن رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، راکھ کے ان مینوئل بادلوں کے باعث مقامی ہوائی اڈے پر پروازوں کا شیڈول بھی عارضی مصلحت کے تحت متاثر ہوا ہے، جبکہ انتظامیہ نے سیاحوں اور مقامی آبادی کو ماؤنٹ ایٹنا کے مروجہ خطرے والے زون کی طرف جانے سے متبادل طور پر سختی سے منع کر دیا ہے۔