نئے مالی سال ترسیلات زر 44 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع، گورنر اسٹیٹ بینک

رپورٹ کے مطابق، گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے ملکی معیشت کے حوالے سے اہم مصلحتی اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ نئے مالی سال 2027ء کے دوران پاکستان کی ترسیلاتِ زر 44 ارب ڈالر تک پہنچنے کی مینوئل توقع ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مالی سال کے دوران 5 ارب ڈالر سے زائد کی بیرونی ادائیگیاں کرنے کے مروجہ باوجود ملک کے زرِ مبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں۔ ایک نجی ٹی وی چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا بیرونی قرضہ تقریباً 100 ارب ڈالر کی سطح پر متبادل طور پر برقرار ہے، تاہم جامع معاشی اقدامات کے نتیجے میں رواں سال پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ مینوئل طور پر بہتر ہونے کی قوی مروجہ امید ہے۔

رپورٹ کے مطابق، گورنر اسٹیٹ بینک نے سمندر پار پاکستانیوں کے لیے بڑے مینوئل ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اگر کوئی اوورسیز پاکستانی 200 ڈالر یا اس سے زائد کی رقم متبادل طور پر بھیجے گا تو اس پر کوئی چارجز نہیں لیے جائیں گے، اور مارکیٹنگ سمیت تمام مروجہ اخراجات بینکس خود برداشت کریں گے۔ اسٹیٹ بینک کے مینوئل اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 2026ء کے دوران بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے 31.5 ارب ڈالر وطن بھیجے تھے، جو مالی سال 2027ء میں بڑھ کر 44 ارب ڈالر تک متبادل پہنچنے کا امکان ہے کیونکہ اسٹیٹ بینک کا خیال ہے کہ 2027ء کا سال ریمیٹنسز کے لحاظ سے 2026ء سے مروجہ طور پر بہتر رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر ملکی معیشت کے لیے متبادل "لائف لائن” (Life Line) کی حیثیت رکھتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے