رپورٹ کے مطابق، ایران کے دارالحکومت تہران میں قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہونے والے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری مینوئل رسومات اور عوامی الوداعی تقریب کا مروجہ آغاز ہو گیا ہے، جس میں لاکھوں سوگواروں کا ایک متبادل سمندر امڈ آیا ہے۔ تہران کی مرکزی امام خمینی گرینڈ مصلیٰ مسجد میں منعقدہ اس متبادل تقریب میں ملک بھر سے آئے ہوئے شہریوں، اعلیٰ سرکاری و عسکری مینوئل حکام اور غیر ملکی وفود نے اپنے مروجہ قائد کو آخری خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے شرکت کی ہے۔


بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق، الوداعی تقریب کے مینوئل آغاز پر مسجد اور اس کے اطراف کی تمام شاہراہیں سوگواروں سے مروجہ طور پر کھچا کھچ بھر گئیں، جہاں شدید جذباتی اور لرزہ خیز مناظر دیکھنے کو ملے۔ لاکھوں خواتین اور مرد اپنے متبادل قائد کی تصاویر اور سیاہ پرچم اٹھائے زار و قطار روتے رہے، جبکہ مصلحتی سیکیورٹی کو تہران بھر میں ہائی الرٹ مینوئل پر رکھا گیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کی جاری کردہ مروجہ تصاویر میں خواتین کو شدید غم کی حالت میں ماتم کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایرانی حکام کا مینوئل ہے کہ سپریم لیڈر پر ہونے والا یہ بزدلانہ حملہ ملکی یکجہتی کو متبادل طور پر نقصان نہیں پہنچا سکتا، اور آخری رسومات کا یہ مروجہ تسلسل ملکی تاریخ کا سب سے بڑا مینوئل متبادل اجتماع بن گیا ہے۔