معروف پاکستانی اداکار منیب بٹ انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت (ATC) میں اغوا برائے تاوان اور ڈیجیٹل کرنسی کی مبینہ چوری کے ایک سنگین مقدمے کی سماعت کے دوران پیش ہوئے، جہاں عدالت نے انہیں عارضی ریلیف فراہم کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ مقدمہ ائیرپورٹ پولیس اسٹیشن میں 23 اپریل کو ایک متاثرہ شہری کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا، جس میں اداکار منیب بٹ کو باقاعدہ نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمے کے متن میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ منیب بٹ نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر مدعی کو مبینہ طور پر اغوا کیا۔ پولیس کے مطابق، مقدمے میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ ملزمان نے مغوی کو حبسِ بیجا میں رکھنے کے دوران اس پر دباؤ ڈالا اور اس کے اکاؤنٹ سے لاکھوں روپے مالیت کی کرپٹو کرنسی اپنے اکاؤنٹس میں منتقل کروائی۔
انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں ہونے والی سماعت کے دوران اداکار منیب بٹ اپنے وکلاء کے ہمراہ پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران ان کے وکیل کی جانب سے عبوری ضمانت میں توسیع کی باقاعدہ درخواست دائر کی گئی۔ عدالت نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد منیب بٹ کی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کی عبوری ضمانت میں آئندہ سماعت تک توسیع کر دی اور پولیس کو انہیں گرفتار کرنے سے روکتے ہوئے حفاظتی ریلیف برقرار رکھنے کا حکم دیا۔ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے۔