پاکستان کی سمندری حدود کے دفاع اور بحری تاریخ میں ایک نئے اور سنہرے باب کا آغاز ہو گیا ہے۔ چین میں خصوصی طور پر پاک بحریہ کے لیے تیار کی جانے والی پہلی جدید ترین ہنگور کلاس (Hangor-class) آبدوز کامیابی کے ساتھ کراچی کے ساحل پر پہنچ گئی ہے۔
جدید ترین حربی و دفاعی ٹیکنالوجی کی خصوصیات:
اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق، ‘پی این ایس/ایم ہنگور’ (PNS/M Hangor) پاکستان کی سمندری حدود کی جانب کامران پیش قدمی مکمل کر چکی ہے۔
یہ آبدوز دنیا کے صفِ اول کے جدید جنگی نظام (Combat Systems)، ماڈرن سینسرز، اسٹیلتھ ٹیکنالوجی (دشمن کے راڈار سے اوجھل رہنے کی صلاحیت) اور دنیا کی مانی جانے والی ‘ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن’ (AIP) سسٹم سے لیس ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی بدولت یہ آبدوز بغیر سطحِ سمندر پر آئے طویل عرصے تک گہرے پانیوں میں رہ کر دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھ سکتی ہے۔
خطے میں طاقت کا توازن اور بحری سلامتی:
دفاعی ماہرین کے مطابق، اس اسٹیلتھ آبدوز کی بیڑے میں شمولیت سے بحرِ ہند اور خطے میں طاقت کا توازن پاکستان کے حق میں مزید مستحکم ہو گا۔ یہ آبدوز ملکی سمندری سلامتی (Maritime Security)، تجارتی راہداریوں کے تحفظ اور کسی بھی جارحیت کے خلاف پاک بحریہ کی سیکنڈ سٹرائیک (Second-Strike) کی صلاحیت کو انتہائی ناقابلِ تسخیر بنا دے گی۔


