کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال میں تقریباً 20 کروڑ روپے کی بھاری لاگت سے شروع کیا گیا صہبا اختر روڈ کا ترقیاتی منصوبہ کئی ماہ گزرنے کے باوجود تاحال مکمل نہیں ہو سکا ہے، جس کے باعث علاقہ مکینوں اور تاجروں کو شدید سفری و معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔
میئر کراچی کے دعوے اور زمینی حقائق:
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے اس منصوبے کا بڑے دھوم دھام سے افتتاح کرتے ہوئے اسے صرف 45 روز کے اندر مکمل کرنے کا باقاعدہ دعویٰ کیا تھا۔
تاہم، طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود سڑک کی پختہ تعمیر، نکاسیِ آب (سیوریج) کے نظام کی بہتری اور متبادل راستوں کے نہ ہونے سے پیدا ہونے والے ٹریفک جام جیسے بنیادی کام اب بھی ادھورے پڑے ہیں۔
"کراچی کی تاریخ کا سب سے مہنگا واش روم”:
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ جہاں بنیادی سڑک اور سیوریج کا کام سست روی کا شکار ہے، وہیں منصوبے کے تحت بنایا جانے والا عوامی واش روم مکمل ہو چکا ہے۔
اس صورتحال پر شہریوں نے شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں اسے "کراچی کی تاریخ کا سب سے مہنگا واش روم” قرار دے دیا ہے، جو 20 کروڑ کے ادھورے منصوبے کے درمیان مکمل کھڑا ہے۔
30 جون کی ڈیڈ لائن اور شہریوں کا مطالبہ:
مقامی رہائشیوں کے مطابق، بلدیاتی انتظامیہ کی جانب سے متعدد دعوؤں اور اعلانات کے باوجود عملی پیش رفت انتہائی سست ہے۔ اب جبکہ 30 جون کی فائنل ڈیڈ لائن سر پر آن پہنچی ہے، منصوبے کی سو فیصد تکمیل کے آثار دور دور تک نظر نہیں آ رہے۔
شہریوں اور سول سوسائٹی نے سندھ حکومت اور بلدیہ عظمیٰ کراچی (KMC) سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ منصوبے پر ہونے والے کروڑوں روپے کے اخراجات کا آڈٹ کیا جائے، سست روی کی وجوہات سامنے لائی جائیں اور عوام کو متبادل راستوں اور تکمیل کی نئی حتمی تاریخ سے فوری آگاہ کیا جائے۔


