کراچی کے معروف تفریحی مقام ہل پارک کے قریبی مضافات میں مبینہ غیر قانونی قبضے اور متنازع تعمیرات کے سنگین معاملے نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے، جس کے بعد انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر نئے سوالات نے جنم لے لیا ہے۔ مقامی ذرائع اور علاقہ مکینوں کی جانب سے اٹھائے جانے والے ان سوالات میں پارک کی اراضی پر بڑھتے ہوئے تجاوزات اور گرین بیلٹ کو پہنچنے والے نقصان پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اس معاملے کے منظرِ عام پر آنے کے بعد بلڈر مافیا اور مقامی ڈویلپرز کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ قیمتی سرکاری اراضی اور عوامی تفریحی مقامات پر اس نوعیت کی متنازع سرگرمیاں اعلیٰ حکام کی آنکھوں کے سامنے ہو رہی ہیں، جو کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خاموشی پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ اس حوالے سے اب دباؤ بڑھ رہا ہے کہ لینڈ یوٹیلائزیشن اور ڈویلپمنٹ اتھارٹیز فوری طور پر ان تعمیرات کی قانونی حیثیت کی جانچ پڑتال کے لیے اعلیٰ سطحی انکوائری کا آغاز کریں۔


