ذرائع کے مطابق عیدالاضحیٰ کی آمد کے ساتھ ہی ملک بھر میں کانگو وائرس (کریمین کانگو ہیمرجک فیور) کے پھیلاؤ کے خطرات بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس تشویشناک صورتحال کے پیشِ نظر طبی ماہرین نے شہریوں، بیوپاریوں اور قربانی کرنے والے افراد کے لیے ایک جامع ہیلتھ ایڈوائزری جاری کی ہے، جس میں تاکید کی گئی ہے کہ قربانی کے لیے جانور خریدتے، ان کی دیکھ بھال کرتے اور ذبح کرتے وقت سخت احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے دوران مویشی منڈیوں اور گھروں میں لائے گئے جانوروں پر چیچڑ مار (Anti-tick) اسپرے کا استعمال لازمی یقینی بنایا جائے۔
ماہرینِ صحت نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ قربانی کے وقت اور کھال اتارتے وقت دستانے، ماسک اور حفاظتی لباس کا استعمال کیا جائے، جبکہ جانوروں کے تازہ خون اور آلائشوں کو براہِ راست ننگے ہاتھوں سے چھونے سے مکمل گریز کیا جائے۔ ایڈوائزری میں واضح کیا گیا ہے کہ کانگو وائرس جانوروں کی جلد پر موجود چِچڑیوں (Ticks) کے کاٹنے یا متاثرہ جانور کے خون اور فضلے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے جو کہ ایک جان لیوا مرض ثابت ہو سکتا ہے۔
طبی ماہرین نے علامات سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی بھی شخص کو جانوروں سے رابطے کے بعد تیز بخار، شدید جسم میں درد، الٹی یا جسم کے کسی حصے سے خون بہنے کی علامات ظاہر ہوں، تو وہ وقت ضائع کیے بغیر فوری طور پر قریبی ہسپتال سے طبی امداد حاصل کرے۔ ماہرین نے انتظامیہ اور عوام پر زور دیا ہے کہ عید کے دنوں میں گلی محلوں میں صفائی ستھرائی اور حکومت کے بتائے گئے حفاظتی اصولوں کا خاص خیال رکھیں تاکہ اس ممکنہ وبائی خطرے سے بچا جا سکے۔


