چین کے شہر ہانگژو میں منعقدہ "پاک چین بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس” کے دوران دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کے مابین 13 ارب ڈالر (13 Billion$) سے زائد مالیت کے تاریخی تجارتی معاہدوں اور سرمایہ کاری کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔ نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے اس بڑی اقتصادی پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پاک چین سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر اب معاشی سفارت کاری (Economic Diplomacy) پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی محور بن چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کی فولادی دوستی (Steel Brotherhood) وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئی ہے اور اب یہ سرکاری سطح سے آگے بڑھ کر بزنس ٹو بزنس (B2B) پارٹنرشپ میں تبدیل ہو رہی ہے۔
دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اس سلسلے وار کانفرنسوں کے ذریعے اب تک 300 سے زائد مفاہمت کی یادداشتوں (MoUs) اور تقریباً تین درجن مشترکہ منصوبوں (Joint Ventures) پر دستخط کیے جا چکے ہیں، جن کی مجموعی مالیت 13 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس سلسلے کی پانچویں کانفرنس میں خاص طور پر انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT) و ٹیلی کام، بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (BESS) اور جدید صنعتی و زرعی ترقی کے شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی، جو پاکستان کی اقتصادی اصلاحات کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
سرمایہ کاروں سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ پاکستان کاروبار کے لیے مکمل طور پر سازگار ہے اور ملکی معیشت کو استحکام دینے کے لیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی جا رہی ہیں۔ کانفرنس میں وزیرِ اعظم شہباز شریف، چینی صوبے ژجیانگ کے گورنر لیو جی، وفاق وزراء اور چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی سمیت دونوں ممالک کے سینکڑوں کاروباری رہنماؤں نے شرکت کی۔ نائب وزیرِ اعظم نے اسلام آباد میں "آئی بی آئی پاکستان ڈیجیٹل اکانومی ہیڈ کوارٹرز” کے قیام اور "سروس گروپ” و "لانگ مارچ ٹائرز” کے مابین 1 ارب ڈالر کے مشترکہ منصوبے کا بھی ذکر کیا جو اگلے پانچ سالوں میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ کمپنی بن جائے گی۔


