ذرائع کے مطابق، اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان اور فروخت کے خلاف دائر کیس کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ میں کراچی کے ہائی پروفائل ‘انمول عرف پنکی’ منشیات کیس کا تذکرہ ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین منہاس پر مشتمل بینچ نے ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت کی، جہاں تعلیمی اداروں بالخصوص یونیورسٹیوں، کالجوں اور اب اسکولوں میں بھی منشیات کی باآسانی دستیابی پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ عدالت نے ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC)، پولیس اور ضلعی انتظامیہ سے تعلیمی اداروں میں منشیات کے خلاف اٹھائے گئے مانیٹرنگ اقدامات کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل کاشف ملک نے کراچی میں زیرِ تفتیش انمول عرف پنکی کیس کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ منشیات کی اسمگلنگ اور سپلائی کے لیے اب رائیڈرز اور ڈیلیوری بوائز کو نیٹ ورک کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس پر جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ "میں پہلے دن سے کہہ رہا ہوں کہ منشیات کی منتقلی کے لیے رائیڈرز اور ڈیلیوری بوائز کا سہارا لیا جا رہا ہے”۔ ایچ ای سی حکام نے بتایا کہ یونیورسٹیوں میں ڈیلیوری بوائز کے لیے مخصوص جگہیں مختص کر دی گئی ہیں جہاں تلاشی کے بعد ہی انہیں داخلے کی اجازت ملتی ہے۔ وکیل نے مزید سنسنی خیز انکشاف کیا کہ اب یونیورسٹیوں کے بعد اسکولوں میں ساتویں اور آٹھویں جماعت کے بچے بھی منشیات کا شکار ہو رہے ہیں اور اسلام آباد کے چھوٹے چھوٹے کریانہ اسٹورز پر بھی منشیات عام ہے۔ عدالت نے منشیات کے خلاف پرائم ٹائم میں آگاہی مہم چلانے کی ہدایت کرتے ہوئے پیمرا (PEMRA) سے بھی رپورٹ طلب کر لی ہے اور کیس کی سماعت جون کے آخری ہفتے تک ملتوی کر دی ہے۔


