ایکسپریس نیوز کے مطابق، بینائی سے محروم (نابینا) بہن بھائی کو ملازمت پر مستقل کرنے کے عدالتی احکامات کو ہوا میں اڑانا ڈائریکٹر جنرل کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (DG KDA) کو انتہائی مہنگا پڑ گیا ہے۔ سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ میں معذور کوٹہ کے تحت نوکری فراہم کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جہاں عدالتِ عالیہ نے کے ڈی اے کی جانب سے عدالتی احکامات کی مسلسل خلاف ورزی اور عدم تعمیل پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے سخت ایکشن لیتے ہوئے ڈی جی کے ڈی اے کو توہینِ عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے اور انہیں حکم دیا ہے کہ ایک ہفتے کے اندر عدالتی فیصلے پر مکمل عملدرآمد رپورٹ جمع کرائی جائے۔
سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے معزز عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ دونوں نابینا بہن بھائی، صائمہ اور مجتبیٰ، کے ڈی اے میں کنٹریکٹ کی بنیاد پر تعینات ہوئے تھے اور انہوں نے محکمے میں 2 سے 3 سال تک ایمانداری سے فرائض سرانجام دیے۔ وکیل نے دلائل دیے کہ قانون کے مطابق ان دونوں کو خصوصی معذور کوٹہ کے تحت ملازمت پر مستقل کیا جانا تھا اور عدالت نے بھی اس کا واضح حکم دیا تھا، لیکن کے ڈی اے انتظامیہ نے عدالتی احکامات ماننے کے بجائے دونوں کا کنٹریکٹ بھی ختم کر کے انہیں فارغ کر دیا۔ سندھ ہائیکورٹ نے معاملے کی سنگینی کے پیشِ نظر کے ڈی اے حکام کو سخت تنبیہ کی ہے کہ معذور افراد کے حقوق کی پامالی اور عدالتی احکامات کی نافرمانی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔


