جرمنی کے ساحل پر پھنسنے کے بعد دو ہفتے قبل ایک بڑے اور مہنگے آپریشن کے ذریعے بچائی جانے والی ہمپ بیک (Humpback) وہیل ڈنمارک کے ایک جزیرے کے قریب مردہ حالت میں پائی گئی ہے۔ ڈینش انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کی ڈویژن ہیڈ جین ہینسن نے تصدیق کی ہے کہ سویڈن اور ڈنمارک کے درمیان سمندر میں تیرتی ہوئی اس مردہ وہیل کی پشت پر نصب ٹریکنگ ڈیوائس برآمد کر لی گئی ہے، جس کے ڈیزائن اور لوکیشن سے واضح ہوتا ہے کہ یہ وہی وہیل ہے جسے جرمن حکام نے طویل جدوجہد کے بعد بحیرہ شمالی میں آزاد کیا تھا۔ جرمن میڈیا میں ‘ٹمی’ (Timmy) کے نام سے پکاری جانے والی یہ وہیل رواں سال مارچ سے جرمنی کے ساحلوں پر بار بار ریت کے ٹیلوں میں پھنس رہی تھی، جسے بالآخر 2 مئی کو ایک بڑے بحری جہاز (Barge) کے ذریعے گہرے پانیوں میں چھوڑا گیا تھا۔
جرمنی میں سرکاری سطح پر مایوسی کے بعد دو امیر صنعت کاروں نے اس وہیل کو بچانے کے لیے تقریباً 15 لاکھ یورو (1.7 ملین امریکی ڈالر) کی خطیر رقم فنڈ کی تھی، تاہم تمام تر کوششوں کے باوجود وہیل کی جان نہ بچائی جا سکی۔ ڈینش ماحولیاتی حکام کا کہنا ہے کہ تاحال مردہ وہیل کا پوسٹ مارٹم کرنے یا اسے ساحل سے ہٹانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، تاہم عوام کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ مردہ وہیل سے محفوظ فاصلہ برقرار رکھیں کیونکہ لاش کے گلنے سڑنے کے عمل کے دوران گیسوں کے دباؤ سے اس کے پھٹنے (Explosion) کا شدید خطرہ موجود ہے اور اس سے انسانوں میں بیماریاں بھی منتقل ہو سکتی ہیں۔


