ایران میں قید نوبل امن انعام یافتہ انسانی حقوق کی معروف کارکن نرگس محمدی کی صحت بگڑنے کے بعد انہیں جیل سے تہران کے ایک ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان کے خاندان کی جانب سے چلائی جانے والی فاؤنڈیشن نے تصدیق کی ہے کہ بھاری ضمانت کے عوض ان کی سزا کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی طبی ٹیم سے علاج کروا سکیں۔
نرگس محمدی کو گزشتہ اتوار کے روز ایمبولینس کے ذریعے تہران کے ‘پارس ہسپتال’ منتقل کیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق، 54 سالہ نرگس محمدی کو جیل میں دو بار دل کے دورے پڑے، جبکہ وہ پھیپھڑوں کے مرض (Pulmonary Embolism) میں بھی مبتلا ہیں۔ ان کے وکیل نے سوشل میڈیا پر ان کی ایک تصویر جاری کی ہے جس میں وہ ہسپتال کے بستر پر موجود ہیں اور بتایا گیا ہے کہ قید کے دوران ان کا وزن 20 کلو گرام تک کم ہو گیا ہے۔
نرگس محمدی خواتین کے حقوق اور سزائے موت کے خاتمے کے لیے اپنی طویل جدوجہد کی وجہ سے جانی جاتی ہیں۔ انہیں آخری بار دسمبر 2025 میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب انہوں نے ایک انسانی حقوق کے وکیل کی آخری رسومات پر حکومت مخالف تقریر کی تھی۔ فروری 2026 میں ایک عدالت نے انہیں "پروپیگنڈا سرگرمیوں” کے جرم میں مزید ساڑھے سات سال قید کی سزا سنائی تھی۔
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ‘ایمنسٹی انٹرنیشنل’ نے نرگس محمدی کو طبی سہولیات کی عدم فراہمی کو "تشدد” قرار دیا تھا۔ ان کے بھائی، حامد رضا محمدی، جو ناروے میں مقیم ہیں، نے ان کی تہران منتقلی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب وہ قدرے سکون محسوس کر رہے ہیں۔ نرگس محمدی کو 2023 میں جیل میں ہی نوبل امن انعام سے نوازا گیا تھا۔


