امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ان کے لیے ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روکنا امریکی عوام کی معاشی مشکلات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں ان کا واحد مقصد تہران کی جوہری صلاحیت کو ختم کرنا ہے، چاہے اس کے لیے امریکی معیشت کو کوئی بھی قیمت چکانی پڑے۔
بیجنگ روانگی سے قبل وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا امریکی عوام کی مالی صورتحال انہیں ایران کے ساتھ کسی ڈیل کی طرف مائل کر رہی ہے؟ اس پر صدر نے دوٹوک جواب دیا کہ "معاشی حالات کا میرے فیصلوں پر ذرہ برابر بھی اثر نہیں ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "واحد چیز جو اہمیت رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔ میں کسی کی مالی صورتحال کے بارے میں نہیں سوچ رہا، میرا پورا فوکس صرف اس ایک مقصد پر ہے۔”
صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ میں افراطِ زر (Inflation) کی شرح گزشتہ تین سالوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ایران کے ساتھ جاری تنازع کی وجہ سے توانائی کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے جس نے پیٹرول کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا ہے۔ ریپبلکن پارٹی کے اندر سے بھی صدر پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ معاشی بحران نومبر میں ہونے والے انتخابات میں پارٹی کی پوزیشن کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ اس وقت چین کے دورے پر ہیں جہاں وہ صدر شی جن پنگ سے ملاقات میں ایران جنگ، تجارت اور تائیوان جیسے اہم امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔ دوسری جانب، امریکی انٹیلی جنس رپورٹس نے وائٹ ہاؤس کے ان دعوؤں کی نفی کی ہے کہ ایرانی فوجی طاقت مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران اب بھی اپنے 70 فیصد میزائل ذخائر اور اہم لانچنگ سائٹس پر کنٹرول رکھتا ہے۔
ادھر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے، جہاں حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر اب تک کا سب سے بڑا ڈرون حملہ کیا ہے، جبکہ برطانیہ نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے اپنے جنگی جہاز اور ٹائفون طیارے تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔


