سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ میں کراچی بندرگاہ پر سویا بین گیس اور مواچھ گوٹھ میں فیکٹریوں سے زہریلی گیس کے اخراج کے باعث شہریوں کی اموات سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے کیس کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے سرکاری وکیل کی مہلت کی استدعا پر سماعت ملتوی کر دی۔
رپورٹ کے مطابق، سماعت کے دوران درخواست گزار طارق منصور ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ یہ ایک انتہائی اہم انسانی مسئلہ ہے۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ بندرگاہ پر جہازوں سے سویا بین اتارنے کے دوران پراسرار گیس پھیلنے سے دو دنوں میں 22 افراد اسپتال لائے گئے، جن میں سے 20 جاں بحق ہو گئے۔
درخواست گزار نے مواچھ گوٹھ، کیماڑی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں فیکٹریوں سے زہریلی گیس کے اخراج کے باعث 18 بچوں کی اموات ہوئیں۔ ان بچوں کو سینے میں تکلیف، بخار اور گلے میں درد کی شکایات تھیں۔ اس معاملے میں پلاسٹک بنانے والی 4 فیکٹریاں سیل کی گئی تھیں اور مالک سمیت 5 افراد کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔
سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے موقف اپنایا کہ انہوں نے ابھی فائل نہیں پڑھی، لہٰذا کیس کی تیاری کے لیے مہلت دی جائے۔ جسٹس یوسف علی سعید نے ریمارکس دیے کہ "ہم جانتے ہیں یہ معاملہ اہم ہے اور اس پر پہلے بھی نوٹس لیا گیا تھا۔” عدالت نے ہدایت کی کہ دیکھنا ہوگا کہ اب تک کیا تحقیقات ہوئیں اور کوئی رپورٹ سامنے آئی یا نہیں۔ عدالت نے کیس کی سماعت کے لیے نئی تاریخ مقرر کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔


