چین نے پیر کے روز تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں ہفتے 13 سے 15 مئی تک چین کا سرکاری دورہ کریں گے۔ 2017 کے بعد کسی بھی امریکی صدر کا یہ پہلا دورہ چین ہوگا، جسے عالمی سیاسی منظرنامے میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ صدر شی جن پنگ کی دعوت پر صدر ٹرمپ بیجنگ پہنچیں گے۔ اس دورے کے دوران دونوں صدور کے درمیان ایران کی موجودہ صورتحال، عالمی تجارت، تائیوان اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی جیسے کلیدی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
امریکی حکام کے مطابق، صدر ٹرمپ اس دورے کے دوران صدر شی جن پنگ پر زور دیں گے کہ وہ ایران سے تیل کی خریداری میں کمی لائیں اور خطے میں جاری تنازع کو حل کرنے میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ واضح رہے کہ چین ایرانی تیل کا ایک بڑا خریدار ہے، جو امریکی پابندیوں کے باوجود تہران سے خام تیل کی درآمد جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کے درمیان تجارتی محصولات (Tariffs) کے حوالے سے جاری تناؤ کو کم کرنا بھی اس دورے کے ایجنڈے میں شامل ہے۔
صدر ٹرمپ کے اس دورے میں غیر معمولی پروٹوکول اور پروقار تقریبات شامل ہوں گی، جن میں بیجنگ کے تاریخی ‘ٹیمپل آف ہیون’ کا دورہ اور ایک پرتعیش اسٹیٹ بینکویٹ (سرکاری ضیافت) بھی شامل ہے۔ امریکی پریس سیکریٹری انا کیلی کا کہنا ہے کہ "صدر ٹرمپ محض علامتی دوروں پر یقین نہیں رکھتے، بلکہ وہ امریکی عوام کے لیے بہتر عالمی ڈیلز حاصل کرنے جا رہے ہیں۔”
اس دورے پر پوری دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں، کیونکہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تعلقات میں بہتری نہ صرف عالمی معیشت بلکہ خطے میں جاری جنگوں کے خاتمے کے لیے بھی ناگزیر سمجھی جا رہی ہے۔


