مشرقِ وسطیٰ کے سمندروں میں جاری کشیدگی نے اس وقت عالمی رخ اختیار کر لیا ہے جب چین نے آبنائے ہرمز میں امریکی فورسز کی جانب سے ایرانی تجارتی جہاز کو روکنے اور اس پر قبضہ کرنے کی کارروائی پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ بیجنگ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گیو جیا کن نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور اشیاء کی نقل و حمل کے لیے ایک انتہائی اہم بحری راستہ ہے، اور اس کی حفاظت و استحکام پوری بین الاقوامی برادری کے مفاد میں ہے۔ چین کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بحیرہ عمان میں ایرانی جھنڈے والے کارگو جہاز ‘توسکا’ کو امریکی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی پر قبضے میں لینے کا اعلان کیا۔
چینی ترجمان نے زور دے کر کہا کہ طاقت کا استعمال صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ انہوں نے امریکہ اور ایران دونوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کریں اور موجودہ جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری کریں۔ بیجنگ کا ماننا ہے کہ خطے میں حالات کو معمول پر لانے کے لیے مذاکرات کا ماحول پیدا کرنا ضروری ہے، تاکہ عالمی منڈیوں کو کسی بڑے بحران سے بچایا جا سکے۔ چین نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں نہ صرف علاقائی سلامتی کو خطرے میں ڈالتی ہیں بلکہ عالمی سپلائی چین اور توانائی کے شعبے پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔
سفارتی ماہرین کے مطابق، چین کا یہ موقف ظاہر کرتا ہے کہ وہ اس تنازع میں ایک اہم فریق کے طور پر ابھر رہا ہے جو اپنے تجارتی مفادات کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے۔ ایک طرف امریکہ اپنی بحری ناکہ بندی کو مزید سخت کر رہا ہے، تو دوسری طرف چین جیسے عالمی کھلاڑی کی جانب سے تحمل کی اپیلیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ عالمی برادری کسی نئی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا واشنگٹن بیجنگ کی ان تشویشات کو اہمیت دیتا ہے یا آبنائے ہرمز میں جاری یہ ٹکراؤ کسی بڑے عالمی بحران کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ پاکستان سمیت خطے کے تمام ممالک اس صورتحال کو باریک بینی سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ اس کے اثرات براہِ راست عالمی معیشت پر پڑیں گے۔


