پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی میں ثالثی کا کردار ادا کیا، جسے عالمی سطح پر اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی متوقع سخت کارروائی کی ڈیڈ لائن کے قریب پہنچنے پر پاکستان نے فریقین کو مزید وقت دینے کے لیے امن کی اپیل کی، جس کے بعد امریکہ اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا۔
پاکستان نے اسلام آباد میں مذاکرات کی راہ ہموار کرنے اور طے شدہ وقفے کو مؤثر بنانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کیں، جس سے امریکی اسٹاک مارکیٹ میں بہتری بھی دیکھی گئی۔
اس جنگ بندی کے تحت، ایران نے آبنائے ہرمز کو محفوظ طریقے سے کھولنے پر رضامندی ظاہر کی، جس سے عالمی توانائی کی ترسیل کے راستے فعال رہیں گے۔ جنگ بندی کا مقصد عارضی وقفہ فراہم کرنا اور آئندہ مذاکرات کے لیے ماحول تیار کرنا بتایا گیا ہے۔
عالمی رہنماؤں نے پاکستان کی ثالثی کو سراہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے خاص طور پر وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل آصف منیر کا شکریہ ادا کیا اور اپنے “بھائیوں” کے طور پر ان کا ذکر کیا۔
عالمی تنظیموں اور کئی ممالک نے بھی پاکستان کے کردار کا خیرمقدم کیا، جس کے تحت وقفے کے دوران مذاکرات اگلے مرحلے میں لے جانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں تشدد کے اثرات نے عالمی توانائی مارکیٹس اور بین الاقوامی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔


