اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل آج آبنائے ہرمز سے متعلق ایک اہم قرارداد پر ووٹنگ کرنے جا رہی ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی ڈیڈ لائن سے قبل متوقع ہے۔
یہ قرارداد بحرین کی جانب سے پیش کی گئی ہے جس میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ قرارداد میں ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں دفاعی تعاون کو بڑھائیں، جس میں کمرشل جہازوں کو سیکیورٹی فراہم کرنا بھی شامل ہے۔
رپورٹس کے مطابق قرارداد میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر جہازوں اور شہری انفراسٹرکچر پر حملے بند کرے۔ حالیہ ہفتوں میں آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جہاں کئی تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا گیا اور بحری راستے متاثر ہوئے۔
ابتدائی طور پر قرارداد میں طاقت کے استعمال کی اجازت دینے کی شق بھی شامل تھی، تاہم چین، روس اور دیگر ممالک کے اعتراضات کے بعد اسے ہٹا دیا گیا۔ اب موجودہ مسودہ زیادہ تر دفاعی اقدامات اور بین الاقوامی قوانین کے تحت تعاون پر مبنی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور ٹرمپ نے ایران کو واضح ڈیڈ لائن دی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھولے، ورنہ سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم راستہ ہے، جہاں سے دنیا کے تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ حالیہ صورتحال کے باعث نہ صرف عالمی تجارت متاثر ہوئی ہے بلکہ تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔


