امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے ایک بار پھر خطے میں بڑی جنگ کے خدشات کو بڑھا دیا ہے، خاص طور پر اس وقت جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت دھمکیاں دہرائی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر معاملات طے نہ پائے تو ایرانی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جس میں پاور پلانٹس اور دیگر اہم تنصیبات شامل ہو سکتی ہیں۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے اور خطے میں فوجی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اس کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز کا معاملہ بھی تنازع کا اہم مرکز بنا ہوا ہے، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔
دوسری جانب جنگ کو روکنے کے لیے مختلف ممالک کی جانب سے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ پاکستان، ترکی اور مصر سمیت کئی ممالک فریقین کے درمیان ثالثی کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ کسی ممکنہ بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔
اطلاعات کے مطابق ایک ممکنہ جنگ بندی کے لیے 45 دن کا منصوبہ بھی زیر غور ہے، جس میں فوری جنگ بندی اور بعد ازاں مذاکرات شامل ہیں۔ تاہم ایران کی جانب سے اس تجویز پر مکمل رضامندی ظاہر نہیں کی گئی۔
حالیہ بیانات اور پیش رفت نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے، جبکہ خطے میں حالات بدستور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں اور کسی بھی وقت کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان موجود ہے۔


