چین کے شہر ارومچی میں جاری پاک افغان مذاکرات میں پاکستان نے اپنے تین اہم مطالبات پیش کر دیے ہیں، جن کا مقصد سرحدی کشیدگی کو کم کرنا اور سیکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان نے سب سے اہم مطالبہ یہ رکھا ہے کہ افغان سرزمین پر موجود دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور ایسے عناصر کے خلاف واضح اور قابلِ تصدیق کارروائی کی جائے۔
دوسری اہم شرط کے طور پر پاکستان نے افغان طالبان سے یہ یقین دہانی مانگی ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ حکام کے مطابق یہ مسئلہ دونوں ممالک کے تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ رہا ہے۔
تیسرے مطالبے میں جنگ بندی (سیز فائر) اور سرحدی کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات شامل ہیں، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور آمد و رفت کو بحال کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک مؤثر اور باقاعدہ مذاکراتی نظام قائم کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
یہ مذاکرات چین کی ثالثی میں ہو رہے ہیں، جہاں دونوں ممالک کے تکنیکی اور سیکیورٹی حکام شریک ہیں۔ چین اس عمل میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور دونوں ممالک کو بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے پر آمادہ کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ مذاکرات پاک افغان تعلقات میں بہتری کے لیے ایک اہم قدم ہو سکتے ہیں، تاہم حتمی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ افغان حکومت پاکستان کے سیکیورٹی خدشات کو کس حد تک دور کرتی ہے۔
دوسری جانب خطے میں جاری کشیدگی اور حالیہ جھڑپوں کے تناظر میں ان مذاکرات کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ ان کے نتائج خطے کے امن اور استحکام پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔


