اسرائیلی فوج کے ایک اعلیٰ کمانڈر نے اعتراف کیا ہے کہ لبنانی تنظیم حزب اللہ کی فوجی طاقت نے نہ صرف اسرائیلی فوج کو حیران کیا ہے بلکہ موجودہ جنگ میں ان کے اندازوں کو بھی غلط ثابت کر دیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق فوجی کمانڈر رفی میلیوماسگب نے کہا کہ حزب اللہ کے پاس وسیع راکٹ اسٹاک، متعدد لانچرز اور مضبوط دفاعی صلاحیتیں موجود ہیں، جنہوں نے اسرائیلی افواج کے لیے غیر متوقع چیلنجز پیدا کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حزب اللہ تقریباً 10 ہزار راکٹ فائرنگ کے قابل رکھتی ہے اور اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو وہ روزانہ بڑی تعداد میں راکٹ داغ سکتی ہے، جس نے فوجی حکمت عملی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اس اعتراف سے ظاہر ہوتا ہے کہ حزب اللہ نے نہ صرف اپنے ہدف تک پہنچنے کی صلاحیت برقرار رکھی ہے بلکہ اسے بڑھایا بھی ہے، جس نے شمالی اسرائیل میں ہونے والے نقصان اور انفراسٹرکچر کو ٹارگٹ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے۔ حزب اللہ کے حملوں نے کئی بار اسرائیلی دفاعی نظام کو آزمایا ہے، جس کے نتیجے میں شہری علاقوں میں خطرات بڑھ گئے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کی طاقت اور ان کی فائر پاور کا اعتراف ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ یہ ثابت کرتا ہے کہ تنظیم نے اپنے آپریشنل نیٹ ورک، میزائل اور راکٹ سسٹمز میں بہتری لائی ہے، جس سے اسرائیلی افواج کو عسکری محاذ پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ادھر لبنانی سرحد پر جاری جھڑپوں کے دوران حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان شدید لڑائیاں بھی ہوئی ہیں، جس میں دونوں جانب سے جانی نقصان اور تباہی کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ اس تناؤ میں مزید شدت آنے کے خدشات موجود ہیں، خاص طور پر جب جنگ طویل ہوتی جا رہی ہے اور دونوں گروہوں کے درمیان براہِ راست مقابلے بڑھ رہے ہیں۔


