چینی میڈیا ادارے Guancha سے منسوب ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جس میں ڈرون کے مختلف حصوں کو ایک چھوٹے پیمانے کے سیٹ اپ میں تیار اور جوڑا جاتا دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں کارکنوں کو ڈرون کے فوزلاج (fuselage) کو ترتیب سے رکھتے اور دیگر پرزے نصب کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
چینی میڈیا کی ایک ویڈیو میں ڈرون کے حصے جوڑنے کا عمل دکھایا گیا ہے، جسے مبصرین ایران کے ڈرون پروگرام سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈرون ٹیکنالوجی اکثر “dual-use” ہوتی ہے، یعنی شہری اور فوجی دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔#China #Iran #DroneTechnology #UAV… pic.twitter.com/m8WMXgPGaj
— Bakhabar News (@bakhabarnews_) March 16, 2026
مبصرین کے مطابق یہ فوٹیج اس بات کی مثال پیش کرتی ہے کہ ڈرون ٹیکنالوجی کی پیداوار اکثر دوہری نوعیت (dual-use) رکھتی ہے، یعنی اسے شہری اور فوجی دونوں مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسی وجہ سے ایسے کارخانے بظاہر سادہ یا چھوٹے نظر آنے کے باوجود اہم دفاعی صنعت کا حصہ بن سکتے ہیں۔
ایران گزشتہ کئی برسوں سے اپنے ڈرون پروگرام کو وسعت دے رہا ہے، جس میں مختلف اقسام کے بغیر پائلٹ طیارے شامل ہیں۔ ان میں Shahed drones بھی شامل ہیں جو نگرانی اور حملہ آور دونوں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید ڈرونز کی تیاری اکثر عام صنعتی آلات اور تجارتی پرزوں سے بھی ممکن ہوتی ہے، جس کی وجہ سے ان کی پیداوار کو مکمل طور پر فوجی یا مکمل طور پر سویلین کہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈرون ٹیکنالوجی عالمی سطح پر تیزی سے پھیل رہی ہے اور مختلف ممالک اور گروہوں کے پاس اس تک رسائی بڑھ رہی ہے۔
تاہم اس ویڈیو کے بارے میں یہ واضح نہیں کہ دکھایا گیا سیٹ اپ ایران کے لیے براہِ راست پیداوار سے متعلق ہے یا محض عمومی ڈرون اسمبلی کی مثال ہے۔ اس لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی فوٹیجز کو حتمی ثبوت کے طور پر لینے سے پہلے مزید تصدیق ضروری ہے۔


