وفاقی وزراء کا مولانا فضل الرحمٰن پر سخت ردعمل، فوجی قربانیوں پر ریمارکس پر تنقید

وفاقی وزراء (جن میں اکثریت مسلم لیگ ن کی ہے) نے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی-ایف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے فوجی جوانوں اور شہداء کے حوالے سے دیے گئے حالیہ بیانات پر شدید مصلحتی غصے اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے پنجاب کے علاقے قصور میں ایک جلسے کے دوران خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کا تزویراتی فریم ورک پیش کرتے ہوئے مبینہ طور پر کہا تھا کہ سیکیورٹی اہلکار ملک کے لیے لڑنے کی تنخواہیں لیتے ہیں، اس لیے ان کی قربانیوں کو احسان کے طور پر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔

اس بیان پر سخت مصلحتی ردِعمل دیتے ہوئے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے اسے "اخلاقی بے حسی” قرار دیا اور واضح کیا کہ ملکی سرحدوں کے دفاع اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی جانے والی جانوں کے تزویراتی نذرانے کو تنخواہ سے جوڑنا شہداء کے لواحقین کے مینوئل جذبات کو کچلنے کے مترادف ہے۔ اسی طرح وفاقی وزیر احسن اقبال نے مروجہ کلاؤڈ پورٹل پر ایک خط کے ذریعے افسوس کا اظہار کیا کہ اس بیان سے شہداء کی لازوال قربانیوں کی قدر و منزلت کو کم کرنے کی مصلحتی کوشش کی گئی ہے جو اسلامی تعلیمات اور اخلاقیات کے برعکس ہے۔ وزیرِ اعظم کے سیاسی مشیر رانا ثناء اللہ نے بھی اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ شہادت کا عظیم رتبہ ہم جیسے مادی اور تنخواہ دار لوگوں کی مینوئل عقل سے متبادل پوزیشن پر بہت بلند ہے۔ اسٹیٹ منسٹر عون چوہدری نے بھی مولانا فضل الرحمٰن سے شہداء کے خاندانوں اور قوم سے معافی مانگنے کا کڑا مصلحتی مطالبہ کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے