سپریم کورٹ نے عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کروانے کے لیے کسی شہری کا شناختی کارڈ (سی این آئی سی) بلاک کرنے کو غیرقانونی قرار دے دیا ہے اور اسے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
تحریری فیصلے میں جسٹس منیب اختر نے قرار دیا کہ شناختی کارڈ کوئی عیاشی نہیں بلکہ ہر شہری کی بنیادی ضرورت ہے۔ عدالت کے مطابق کسی شہری کو شناختی کارڈ سے محروم کرنا درحقیقت اس کے بنیادی حقِ زندگی اور معاشرتی وجود سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔
دو رکنی بینچ نے واضح کیا کہ اگر کسی عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں ہو رہا تو متعلقہ شخص کو مجبور کرنے کے لیے اس کا شناختی کارڈ معطل یا بلاک نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ اس نوعیت کے اقدامات غیر متناسب اور آئین کے منافی ہیں۔
جسٹس منیب اختر نے اپنے فیصلے میں یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا آئندہ رقوم کی وصولی کے لیے عدالتیں بجلی اور پانی کے کنکشن منقطع کرنے کے احکامات بھی جاری کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ شناختی کارڈ سے محرومی کسی شہری کے بنیادی حقِ زندگی سلب کرنے کے برابر ہے۔
سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو بھی کالعدم قرار دے دیا جس میں ایک شہری کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم برقرار رکھا گیا تھا۔ عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ شہریوں کی شناخت اور بنیادی سہولیات تک رسائی کو بطور سزا یا دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔


