جنگ کے چودھویں روز خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ امریکہ کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا جا چکا ہے اور جو رہنما زندہ ہیں وہ روپوش ہیں۔ تاہم سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی متعدد ویڈیوز ان دعووں کے برعکس منظر پیش کر رہی ہیں۔
جنگ کے چودھویں روز امریکہ کا دعویٰ ہے کہ ایرانی قیادت مار دی گئی یا چھپ گئی ہے، مگر سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز سامنے آ رہی ہیں جن میں ایرانی صدر اور دیگر رہنما عوام کے درمیان نظر آ رہے ہیں۔ کیا یہ ایرانی عوام کو اعتماد دینے کی حکمت عملی ہے یا اطلاعاتی جنگ کا حصہ؟#Iran #USA… pic.twitter.com/wvv8KUKBEk
— Bakhabar News (@bakhabarnews_) March 14, 2026
ان ویڈیوز میں ایرانی قیادت کو عوام کے درمیان دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک ویڈیو میں ایران کے صدر کو بغیر سخت سکیورٹی کے عوام کے درمیان گھومتے اور لوگوں سے ملاقات کرتے دیکھا گیا ہے۔ اسی طرح دیگر سیاسی اور عسکری رہنماؤں کی ویڈیوز بھی سامنے آ رہی ہیں جن میں وہ عوام کے درمیان موجود دکھائی دیتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق ایرانی حکومت اس طرح کی سرگرمیوں کے ذریعے اپنی عوام کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ قیادت محفوظ ہے اور ریاستی نظام بدستور قائم ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگی حالات میں اس قسم کے عوامی مناظر عوام کے حوصلے بلند رکھنے اور دشمن کے دعوؤں کو رد کرنے کے لیے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔
دوسری جانب امریکہ اور اس کے اتحادی ایران پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ ایران کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آ رہا ہے کہ ملک کی قیادت اور دفاعی نظام مکمل طور پر فعال ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اطلاعاتی جنگ بھی اس تنازع کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے جس میں دونوں جانب سے بیانیہ مضبوط کرنے کی کوشش جاری ہے۔


