وزیرِ اعظم شہباز شریف نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں معاشی اصلاحات سے متعلق ایک اہم مصلحتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے بینکوں اور مالیاتی اداروں کو ملک میں کیش لیس (ڈیجیٹل) معیشت کے فروغ کے لیے اپنا بھرپور مینوئل کردار ادا کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ انہوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان کی معیشت کو ڈیجیٹل ادائیگیوں پر منتقل کرنے کے حوالے سے معاشی ٹیم کی مصلحتی کارکردگی کو زبردست الفاظ میں سراہا۔ وزیرِ اعظم نے واضح کیا کہ ایک سال کے اندر موبائل بینکنگ ایپلی کیشنز کے صارفین کی تعداد 95 ملین سے بڑھ کر 137 ملین تک پہنچنا ایک شاندار اور کڑی تزویراتی کامیابی ہے۔
اجلاس کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ گزشتہ ایک سال میں ڈیجیٹل ادائیگیاں وصول کرنے والے رجسٹرڈ تاجروں کی تعداد میں 300 فیصد کا ریکارڈ تزویراتی اضافہ ہوا ہے، جبکہ بیرونِ ملک سے موصول ہونے والی 92 فیصد ترسیلاتِ زر اب ڈیجیٹل چینلز کے متبادل فریم ورک کے ذریعے منتقل ہو رہی ہیں۔ وزیرِ اعظم نے تمام سمندر پار ترسیلات کو سو فیصد مینوئل پوزیشن پر ڈیجیٹل کرنے اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی امداد کو شفاف پوزیشن پر ڈیجیٹل والٹس میں منتقل کرنے کی کڑی تعریف کی، جس کے تحت اب ایک کروڑ سے زائد مستحقین مروجہ کلاؤڈ کے تحت براہِ راست فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے حکام کو مینوئل کیو آر کوڈ ادائیگیوں کو گلی محلوں کے دکانداروں میں مزید مقبول بنانے کے لیے کڑی مصلحتی بیداری مہم چلانے کا حکم دیا اور بتایا کہ اس کیش لیس معیشت کے اقدام کی تھرڈ پارٹی توثیق جاری ہے، جس کی حتمی رپورٹ رواں سال نومبر میں پیش کی جائے گی۔