ایران نے رویہ نہ بدلا تو بمباری کریں گے، ٹرمپ کی دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے اپنے رویے کو درست نہ کیا، تو امریکہ دوبارہ فوجی کارروائی اور بمباری شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ امریکی صدر نے یہ بیان ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے دیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان امن مذاکرات اور جنگ بندی کے حوالے سے ایک معاہدہ متوقع ہے، تاہم امریکی صدر نے واضح کیا کہ یہ صرف ایک ابتدائی مفاہمت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انہیں اس معاہدے کی حتمی شرائط پسند نہ آئیں، یا ایران کی جانب سے کسی بھی قسم کی خلاف ورزی دیکھنے میں آئی، تو وہ فوری طور پر دوبارہ فضائی حملوں کا حکم دے دیں گے۔ انہوں نے سخت الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اگر تہران نے صحیح رویہ نہ دکھایا، تو بم گرانے کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا جائے گا۔

امریکی انتظامیہ کا موقف ہے کہ ایران کو کسی بھی قسم کا اقتصادی یا سفارتی ریلیف صرف اس کے مثبت رویے اور جوہری و فوجی سرگرمیاں روکنے کی شرط پر ہی دیا جائے گا۔ رواں سال فروری میں ایرانی سپریم لیڈر کی ہلاکت کے بعد خطے کی صورتحال پہلے ہی انتہائی حساس بنی ہوئی ہے، اور امریکی صدر کے اس حالیہ جارحانہ بیان نے سفارتی سطح پر جاری امن کی کوششوں کو ایک بار پھر شدید دباؤ میں لا دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے