رپورٹ کے مطابق، وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے مالیاتی سال 2026-27ء (FY27) کے لیے پیش کردہ مروجہ بجٹ کو ملکی معیشت کی پائیدار بحالی اور معاشی ترقی کی راہ پر ایک سنگِ میل اور اہم مروجہ پیش رفت قرار دیا ہے۔ بجٹ تقریر اور میڈیا بریفنگز کے دوران وزیرِ خزانہ نے واضح کیا کہ 18.8 ٹریلین روپے کا یہ مجوزہ وفاقی بجٹ صرف ایک مالیاتی دستاویز نہیں، بلکہ ملک کو معاشی استحکام کے عارضی مرحلے سے نکال کر مروجہ صنعتی و تجارتی ترقی کی طرف گامزن کرنے کی ایک تزویراتی کوشش ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، وزیرِ خزانہ نے ملکی مجموعی قومی پیداوار کی شرحِ نمو کا ہدف 4 فیصد اور اوسط افراطِ زر (مہنگائی) کو 8.2 فیصد کی مروجہ سطح پر لانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے مالیاتی خسارے کو جی ڈی پی کے 3.6 فیصد تک محدود رکھنے اور 2 فیصد کے پرائمری سرپلس کا ہدف حاصل کرنے کی مروجہ حکمتِ عملی پر بھی روشنی ڈالی۔ رپورٹ کے مطابق، نئے بجٹ مینوئل میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور فری لانس برآمد کنندگان کے لیے فائنل ٹیکس رجیم کو اگلے تین سال یعنی 2030ء تک بڑھانے اور 120,000 نوجوانوں کو ڈیجیٹل اسکلز دینے کے لیے 5.29 ارب روپے مختص کرنے جیسے اقدامات کو معاشی ترقی کا مروجہ انجن قرار دیا گیا ہے۔ وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، فیکٹرنگ اور انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن کے ذریعے 500 ارب روپے کا مروجہ اضافی ریونیو حاصل کیا جائے گا، جو ملکی تاریخ میں معاشی دستاویز کاری کو مستقل بنیادوں پر مروجہ اور دستاویزی بنانے کا اہم ترین مرحلہ ثابت ہوگا۔


