ذرائع کے مطابق مصطفیٰ امیر کے ہائی پروفائل قتل کیس کی تفتیش میں سنسنی خیز اور چونکا دینے والے نئے انکشافات سامنے آئے ہیں، جس کے بعد اس واردات کے تار بدنامِ زمانہ ’انمول عرف پنکی گینگ‘ سے جڑ گئے ہیں۔ پولیس اور تفتیشی اداروں کی جانب سے کی جانے والی جائنٹ انویسٹیگیشن کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ مقتول مصطفیٰ امیر پر قاتلانہ حملہ اور ان کی موت محض سٹریٹ کرائم کا شاخسانہ نہیں تھی بلکہ اس کے پیچھے منظم جرائم پیشہ نیٹ ورک کی منصوبہ بندی شامل تھی۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ جدید سائنسی خطوط، سی سی ٹی وی (CCTV) فوٹیج کی مدد اور حراست میں لیے گئے دیگر مشتبہ ملزمان سے حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں انمول عرف پنکی گینگ کے اس قتل میں ملوث ہونے کے پختہ شواہد ملے ہیں۔ یہ گینگ مختلف نوعیت کی سنگین وارداتوں، ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے نیٹ ورک کو آپریٹ کرنے کے لیے جانا جاتا ہے۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ مصطفیٰ امیر کو نشانہ بنانے کے لیے گروہ کے کارندوں کو باقاعدہ ہدف دیا گیا تھا، جس کی وجوہات پر مزید باریک بینی سے کام کیا جا رہا ہے۔
اس اہم ترین کڑی کے سامنے آنے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے انمول عرف پنکی گینگ کے سرغنہ اور اس کے مفرور شوٹرز کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے چھاپوں کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔ آئی جی اور دیگر اعلیٰ پولیس حکام نے انوسٹی گیشن ٹیم کو خصوصی ہدایات جاری کی ہیں کہ اس کیس سے جڑے تمام کرداروں کو بلا امتیاز جلد از جلد گرفتار کیا جائے تاکہ مقتول کے لواحقین کو انصاف فراہم کیا جا سکے اور شہر کے امن کو تباہ کرنے والے اس خطرناک گینگ کا مکمل صفایا ممکن ہو سکے۔


