ہینٹا وائرس (Hantavirus) ایک سنگین نوعیت کی زونوٹک بیماری ہے جو بنیادی طور پر چوہوں اور اس سے ملتی جلتی نسل کے جانوروں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔ یہ وائرس انسانوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ یہ پھیپھڑوں کے شدید انفیکشن (Hantavirus Pulmonary Syndrome) اور گردوں کے فیل ہونے (Hemorrhagic Fever with Renal Syndrome) کا باعث بنتا ہے۔ حالیہ دنوں میں عالمی سطح پر چند کیسز رپورٹ ہونے کے بعد طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ یہ وائرس عام طور پر ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل نہیں ہوتا، لیکن اس کی انفرادی شدت اس قدر زیادہ ہے کہ بروقت طبی امداد نہ ملنے کی صورت میں یہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق ہینٹا وائرس کی منتقلی کا سب سے عام ذریعہ "ایئروسولائزیشن” ہے، جس میں متاثرہ چوہوں کا خشک فضلہ یا پیشاب ہوا میں باریک ذرات کی صورت میں شامل ہو جاتا ہے اور جب انسان اس ہوا میں سانس لیتے ہیں تو وائرس ان کے جسم میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ متاثرہ سطح کو چھونے یا چوہے کے کاٹنے سے بھی یہ وائرس منتقل ہو سکتا ہے۔ اس بیماری کی ابتدائی علامات میں تیز بخار، پٹھوں میں شدید درد، تھکاوٹ اور سر درد شامل ہیں، جو چند دنوں میں سانس لینے میں شدید دشواری یا گردوں کی تکلیف میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔ پھیپھڑوں کو متاثر کرنے والی قسم میں شرحِ اموات تقریباً 38 فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے۔
فی الوقت ہینٹا وائرس کا کوئی مخصوص علاج یا ویکسین دستیاب نہیں ہے، اس لیے طبی ماہرین احتیاط کو ہی بہترین حل قرار دے رہے ہیں۔ ہینٹا وائرس سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ گھروں، گوداموں اور کام کی جگہوں کو چوہوں سے پاک رکھا جائے اور خوراک کو محفوظ ڈبوں میں بند کیا جائے۔ ایسی جگہوں کی صفائی کے دوران جہاں چوہوں کی موجودگی کا خدشہ ہو، خشک جھاڑو دینے کے بجائے جراثیم کش اسپرے کا استعمال کرنا چاہیے تاکہ وائرس کے ذرات ہوا میں نہ اڑیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر اسپتال سے رجوع کرنا چاہیے کیونکہ آئی سی یو (ICU) میں بروقت آکسیجن سپورٹ فراہم کرنے سے مریض کی جان بچائی جا سکتی ہے۔


