مارکو روبیو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں ایران کی 7 جنگی کشتیوں کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ جاری کشیدگی کی وجہ سے اب تک 10 بے گناہ سویلین ملاح ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز میں "مجرمانہ سرگرمیوں” کے ذریعے عالمی تجارت کو نقصان پہنچا رہا ہے، جسے روکنے کے لیے امریکہ نے وہاں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ نے انکشاف کیا کہ امریکہ کی سخت سمندری ناکہ بندی کی وجہ سے ایران کی معیشت کو یومیہ 50 کروڑ ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف پر مشتمل ٹیم سفارتی حل کے لیے کام کر رہی ہے، لیکن مذاکرات کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ ایران زمینی حقائق کو تسلیم کرے اور اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لائے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مارکو روبیو کے اس بیان سے خطے میں پہلے سے موجود تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔


