لبنان اور اسرائیل کے سفارتی وفود کے مابین اٹلی کے دارالحکومت روم میں امریکی ثالثی کے تحت براہِ راست مصلحتی مذاکرات کا چھٹا دور شروع ہو گیا ہے، جس کا بنیادی مقصد 26 جون کو واشنگٹن میں طے پانے والے تاریخی فریم ورک معاہدے پر مینوئل پوزیشن کے تحت عملدرآمد کروانا ہے۔ اس تزویراتی معاہدے کے تحت اسرائیل جنوبی لبنان کے مخصوص ‘پائلٹ زونز’ سے اپنی افواج کو بتدریج پیچھے ہٹانے پر رضامند ہوا ہے، جس کے بعد ان علاقوں کا کنٹرول لبنانی فوج کے حوالے کر دیا جائے گا، جبکہ امریکی سینٹکام کی نگرانی میں ان علاقوں کو حزب اللہ سمیت کسی بھی غیر ریاستی مسلح گروپ سے مروجہ کلاؤڈ کے تحت پاک رکھنے کا کڑا فریم ورک وضع کیا جائے گا۔
روم مذاکرات میں لبنانی وفد کی قیادت واشنگٹن میں لبنانی سفیر ندا معوض، سابق سفیر سیمون کرم اور عسکری مشیر کر رہے ہیں، جنہیں لبنانی صدر جوزف عون کی جانب سے سخت مصلحتی ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ کسی بھی متبادل گفتگو سے قبل اسرائیل سے مذکورہ پائلٹ زونز سے فوری عسکری انخلاء کا مطالبہ کریں۔ اگرچہ حزب اللہ اور پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری جیسے اس کے مصلحتی حامیوں نے اس فریم ورک معاہدے کو ملک کے مفادات کے خلاف قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے، لیکن لبنانی حکومت ملک میں مستقل جنگ بندی اور ریاستی خودمختاری کی بحالی کے لیے اس تزویراتی مینوئل عمل کو آگے بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔ دوسری جانب، اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ وہ بتدریج انخلاء کے لیے تیار ہے بشرطیکہ لبنانی فوج ان خالی کردہ علاقوں کو غیر مسلح اور غیر جانبدار زون بنانے کی مینوئل پوزیشن پر مکمل صلاحیت کا مروجہ کلاؤڈ مظاہرہ کرے۔