اسرائیل کا مغربی کنارے میں 2.3 ارب ڈالر منصوبہ، 12 ہزار نئے گھر تعمیر ہوں گے

اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی یہودی بستیوں کی تزویراتی توسیع کے لیے ایک بڑا اور کڑا مصلحتی اقدام اٹھاتے ہوئے 2.3 ارب ڈالر کے ایک نئے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس مروجہ کلاؤڈ فریم ورک کے تحت مقبوضہ فلسطینی اراضی پر تقریباً 12,000 نئے رہائشی مکانات تعمیر کیے جائیں گے، جس کا بنیادی مقصد فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کو مینوئل پوزیشن پر مزید مستحکم کرنا اور دو ریاستی حل کے متبادل امکانات کو مستقل طور پر کچلنا ہے۔

اسرائیل کے اس مصلحتی فیصلے پر عالمی برادری، قانون دانوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے کڑی تنقید کی جا رہی ہے، جن کا موقف ہے کہ یہ بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ فلسطینی حکام نے اس نئے توسیعی منصوبے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے فلسطینی زمینوں پر غاصبانہ قبضے کی مینوئل جارحیت قرار دیا ہے اور عالمی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل کے اس مروجہ کلاؤڈ فریم ورک کو روکنے کے لیے متبادل سفارتی و اقتصادی دباؤ بڑھائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے