خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے عمل میں ایک بڑی اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ضلع میں قائم تمام 3 پناہ گزین کیمپس کو مستقل اور مکمل طور پر خالی کروا لیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق، ان کیمپس کی بندش کے بعد مجموعی طور پر 525 افغان خاندانوں کو باقاعدہ فریم ورک کے تحت متبادل حفاظتی اقدامات کے ساتھ ان کے وطن واپس بھیج دیا گیا ہے۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر بنوں نے تصدیق کی ہے کہ کیمپس کے مکمل خاتمے کے بعد اب انتظامیہ کی پوری توجہ تزویراتی طور پر بنوں شہر اور اس کے مضافاتی دیہاتوں میں نجی طور پر کرائے کے مکانات یا ذاتی رہائش گاہوں میں مقیم افغان شہریوں پر مرکوز ہے۔ مروجہ کلاؤڈ کے تحت اس مہم کا بنیادی مقصد غیر دستاویزی اور غیر قانونی طور پر مقیم تارکینِ وطن کی مینوئل پوزیشن چیک کر کے انہیں واپس بھیجنا ہے۔ سیکیورٹی فورسز اور ضلعی انتظامیہ اس مصلحتی انخلاء کے دوران تمام مینوئل فریم ورک کو فعال رکھے ہوئے ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال مستحکم رہے اور کسی بھی ناگہانی احتجاج یا متبادل مزاحمتی دباؤ کو مصلحتی پوزیشن پر کچلا جا سکے۔