دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی آج "بچوں سے مشقت کے خاتمے کا عالمی دن” (World Day Against Child Labour) روایتی عزم کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد کم عمری میں بچوں سے مزدوری لینے کے بڑھتے ہوئے رجحان کا جڑ سے خاتمہ کرنا، معاشرے میں اس کے نقصانات کا شعور بیدار کرنا اور ہر بچے کو تعلیم و صحت کے مساوی حقوق دلانا ہے۔
پاکستان میں چائلڈ لیبر کے ہولناک اعداد و شمار:
اس عالمی دن کے موقع پر سامنے آنے والی مختلف میڈیا اور غیر سرکاری تنظیموں (NGOs) کی رپورٹس پاکستان میں بچوں کے مستقبل کے حوالے سے ایک انتہائی بھیانک اور فکر انگیز تصویر پیش کرتی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، ملک میں اس وقت 1 کروڑ سے زائد معصوم بچے ایسے ہیں جن کے مٹیار ہاتھوں میں اسکول کی کتابوں، قلم اور کھلونوں کے بجائے پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیے کارخانوں، ہوٹلوں، اینٹوں کے بھٹوں اور ورکشاپس کے اوزار تھما دیے گئے ہیں۔
تعلیمی محرومی اور مستقبل کو لاحق خطرات:
ماہرینِ سماجیات کا کہنا ہے کہ غربت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی سطح پر مانیٹرنگ کے کمزور نظام کی وجہ سے چائلڈ لیبر میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ لاکھوں بچے اسکول جانے کی عمر میں کچرا چننے یا سخت مشقت کرنے پر مجبور ہیں، جو نہ صرف ان کے بچپن بلکہ ملک کے روشن مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ آئینی تقاضوں کے مطابق ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، جس پر فوری عملدرآمد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔


